ابنا: حکومت افغانستان کے ترجمان "ایمل فیضی" نے تاکید کی کہ امریکہ پر لازم ہے کہ وہ اس بات کوواضح کرے کہ دوہزار چودہ کےبعد افغانستان میں اس کے کل کتنے فوجی اڈے باقی رہیں گے اور کتنے فوجی افغانستان سے واپس ہوں گے اور ان کا اس ملک میں کیاطریقہ کار ہوگا ؟یہ مسلہ ایسے موقع پر پیش آیا ہے کہ افغانستان اور امریکہ کے درمیان ہونے والی قرارداد کے مطابق امریکی فوج کو دوہزار چودہ تک مکمل طور پر اس ملک کو چھوڑ دے اور سیکورٹی کی ذمہ داری افغانستان کی سیکورٹی فورسز کے سپرد کردے۔اس لئے افغانستان کی حکومت کے اعلی حکام، امریکہ کے حکام سے سیکورٹی معاہدے کو معین کرنے کے لئےگفتگو کرنا چاہتے ہیں ایسے حالات میں مخالف گروہ اور افغان عوام نے حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ حکومت افغانستان نے دوہزار چودہ کے بعد بھی اس ملک میں امریکی فوج کےباقی رہنے کے متعلق امریکہ سے خفیہ طریقے پر معاہدہ کیا ہے۔ امریکہ، سیکورٹی معاہدے کو افغانستان پر مسلط کرکے اس ملک میں کئی فوجی اڈے قائم کرنا چاہتا ہے اور اس طرح افغانستان پر اپنا قبضہ جاری رکہنے کی فکر میں ہے۔ جب کہ افغانستان کی عوام نے وسیع پیمانے پراس کی شدید مخالفت کی ہے اسی لئے حکومت افغانستان نے امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ دوہزار چودہ کے بعد اپنے فوجی اڈے اورفوجیوں کی تعداد واضح کرے۔ گزشتہ دنوں امریکی فوجیوں کے ہاتھوں بگرام ایئر بیس میں میں قران مجید کو نذر آتش کرنے اور صوبہ قندھار کے پنجوائی دیہات میں عوام کے قتل عام نے، امریکی فوجیوں کے خلاف افغانستان کے عوام کے غم و غصے میں شدید اضافہ کردیا ہے اور اس ملک کے عوام کوآئندہ بھی امریکہ کی جانب سے اپنے ملک پر غاصبانہ قبضہ جاری رہنے کی تشویش لاحق ہے اور اس موضوع نے کابل کی حکومت کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیاہے کیوں کہ امریکہ اس بات کی کوشش کر رہا ہے کہ افغانستان میں اپنی فورس کو اس سیکورٹی قرارداد کے زیر سایہ کیپیولیشن کا حق دیدے تا کہ افغانستان کے سیکورٹی اور عدالتی ادارے تشدد پھیلانے والے امریکی فوجیوں کو گرفتار اور سزا نہ دے سکیں اور یہ امریکہ کی ایک سوجی سمجھی سازش ہے جس کے ذریعے وہ افغانستان کی خودمختار حکومت کے قوانین کو پامال کرنا چاہتا ہے اور اسی بنا پر کابل کی حکومت افغانستان کےعوام کو صحیح جواب دینے سے قاصر ہے افغانستان کے عوام نےا کثر وبیشتر امریکہ کے خلاف وسیع پیمانے پر مظاہرے کرکے غاصب فوجوں کو اپنی سرزمین سے نکالے جانے پر تاکید کی ہے لیکن امریکہ کی عدالت نے نہ صرف یہ کہ اپنے جارح فوجیوں کی گرفتاری اور سزا کے لئے کوئی اقدام نہیں کیا ہے بلکہ افغانستان کے پنجوائی علاقے میں سترہ افراد کے قاتل کے خلاف بھی کوئی کاروائی انجام نہ دے کر عوام کے غم و غصے میں مزید اضافہ کردیا ہے اس بنا پر عوام، کابل کی حکومت سے اس بات کی توقع رکھتے ہیں کہ اپنی ذمہ داریوں کا بھرپور احساس کرتے ہوئےافغانستان میں امریکی فوج کے باقی رہنےکے متعلق قطعی اقدام کرے اسی طرح افغانستان اور امریکہ کے درمیان اختلاف کی ایک وجہ راتوں میں گھروں پر حملے ہیں اور واشنگٹن نے اس سلسلے میں کابل کی درخواست کو مسترد کر دیا ہے اسی لئے حکومت افغانستان نے امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ دوہزار چودہ کے بعد افغانستان میں اپنی فوج کے دائرہ کار کو واضح کرے۔....... /169
2 اپریل 2012 - 19:30
News ID: 306222
حکومت افغانستان نے امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ دو ہزار چودہ کے بعد افغانستان میں امریکی فوجیوں کی موجود گی کے بارے میں صاف و شفاف گفتگو کرے۔